a

Monday, March 13, 2017

Haye re qismat by Anjeela Qureshi

 Haye re qismat by Anjeela Qureshi



قدرت کا نظام ہے کہ ہر سال کے بعد ایک نیا سال آتا ہے اور نئے سال کی صبح ہر ایک آدمی کے لیےعجیب صبح ہوتی ہے ۔ اس نئے سال میں وہ طالب علم جنہوں نے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا تھا۔وہ اب سب طالب علم ڈگری کالج میں داخلہ لے رہے تھے۔داخل ہو جانے کے بعد سب لوگ خوشی خوشی کالج آتے تھے اور اپنی اپنی پڑھائی میں مصروف تھے۔ سب بچے دور دور سے گاڑیوں پر آتے تھے۔
اتفاق سے اس گاڑی میں " آسیہ " نام کی لڑکی اور " شاہد" نام کا لڑکا تھا۔وہ دونوں بی۔اے(B.A first semester)کے طالب علم تھے۔
اسیہ کو ہر روز وہی سیٹ ملتی تھی جس پر شاید بیٹھا ہوتا تھا۔ دونوں خاموشی خاموشی کالج تک جاتے تھے، مگر ایک دوسرے سے بات تک نہیں کرتے تھے۔
یوں دونوں کا خاموش رہنا پیار میں بدل گیا، شاہد تو پوری طرح سے آسیہ کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا،مگر وہ اس سے اپنے پیار کا اظہار نہیں کر سکتا تھااور آسیہ بھی دل و جان سے چاہنے لگی تھی۔
 ایک دن گھر جاتے وقت شاہد سے رہا نہ گیااور اس نے آسیہ سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔
 آسیہ تو پہلے سے ہی شاید کو دل و جان سے چاہتی تھی۔لحاظہ دونوں کی پریم کہانی شروع ہو گئی۔
جیسے جیسے دن گزرتے گئے،دونوں ایک دوسرے کی محبت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک دوسرے کو دیکھنے بناء رہ نہیں سکتے تھے۔
جب آسیہ اور شاہد کے پر یم کی بھنک ان کے گھر والوں کو لگیتو گھر والوں نے آسیہ اور شاہد کو بلوا کر ان کی مرضی پوچھی اور دونوں کا رشتہ پکا کر دیا گیا۔ اب تو آسیہ اور شاہد بے حد خوش تھے۔
کچھ مہینے کے بعد جب ان کی شادی کی تیاریاں شروع ہونے لگی.تو اچانک ایک دن شاید کی صحت خراب ہو گئی،تو اس وقت شاہد پاس میں ہی ایک مشہور ڈاکٹر کے پاس گیا۔
شاید کو ڈاکٹر نے چیک کیا،تو اس نے بڑے افسوس کے ساتھ کہاکہ" اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔قدرت کو شاہد یہی منظور تھا۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ تمہیں بلڈکنسر (blood cancer) ہے اور تمہاری زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں۔"
 شاہد مایوسی کے عالم میں گھر لوٹا اور گھر والوں سے کہا کہ اس شادی کو روک دو۔
 سب گھر والے اس کی یہ بات سن کر بڑے بے چین ہوئے۔
شاہد جو کہ آسیہ کی محبت میں پوری طرح سے مجنوں بن گیا تھااور آج وہی شاہد یہ کیسے کہہ رہا ہے کہ اس شادی کو روک دو ۔
 گھر والوں کے مجبور کرنے پر شاہد نے بتا دیا:
" مجھے بلڈ کینسر ہے میں چند ہی د نوں کا مہمان ہوں۔"
ادھر آسیہ اپنی شادی کے سپنے سجا رہی تھی،جب اڑتی اڑتی یہ خبر آسیہ کے گھر تک پہنچی تو آسیہ مایوسی کے عالم میں آنسو بہاتی ہوئی شاہد کے گھر میں آگئی۔
 وہاں جب اس نے شاہد کو دیکھا تو غش کھا کر گر پڑی۔
اب شاہد میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ آسیہ کو دلی تسکین دے سکے۔ہو ش آنے پر وہ اس وقت شاہد کے پاس گئی۔
کہ شاہد کی روح اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی، شاہد نے آخری بار ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے آسیہ سے کہا کہ :
"آسیہ میرا اس میں کوئی دوش نہیں، شاید قدرت کو یہی منظور تھا کہ آسیہ اور شاہد کے سپنے ادھورے رہیں۔"
بس اتنی بات کہتے ہوئےشاید نے آسیہ کی باہوں میں دم توڑ دیا۔

 کبھی ہم کیا تھے اور آج کیا ہو گے
 کچھ سہارے تھے وہ بےوفا ہو گے
 وعدہ کر کے پاس رہنے کا وہ کس کا ہو گیا... انجیلہ
 نام تھا ایک لب پہ اس کے لیتے لیتے سو گیا۔



********** ********








No comments:

Post a Comment