a

Wednesday, May 13, 2015

Shafi se shafqat tak novel by Sameera Ishtiaq.

Shafi se shafqat tak novel by Sameera Ishtiaq Online reading.

شاہ بانو کو ابھی تخت سے اُترے دیر نہ ہوئی تھی کہ لگاتار دو،تین فریادیں آئیں۔مہرو کلبلاتی ہوئی کلہ مسلے جا رہی تھی کہ شفق نے کلے میں چکتا بھر لیا۔ ادھر پینو تڑپ اٹھی کہ شفق نے بہانے سے کمر میں دھموکا جڑ دیا۔ مینوچلا اٹھی تھی کہ انکے بالوں میں راکھ جھونک دی۔ غرض کہ شاہ ہانو الٹے پیر دوڑیں شفی کی خبر لینے کو۰۰۰۰ابھی تو پھوٹنے کو تھی کہ شفی گھر بھر میں دھم دھماتے پھرتے پھر رہے تھے۔شاہ بانو ہاتھ میں چپل تھامے میرو کے کمرے کی طرف لپکیں۔ جہاں سے میرو تلملاتی ہوئی غضب ناک ہو کر چلا رہی تھی۰شاہ اماں دیکھیں تو شفی نے میرا نیا دوپٹہ جھر جھرا کر ڈالا۰۰ہائے اللہ سکو کی منگنی کے لیے سینت سینت کے سوٹ اٹھا رکھا تھا۰۰۰کمبخت نے ناس کر ڈالا۰۰وہ دوپٹّے پر آدھے ٹوٹے آدھے لٹکتے تاروں کو بےبسی سے دیکھ کر چلائی۔۔۔ اور شفی دوپٹہ سر پر اوڑھے اچھل اچھل کر ناچ رہے تھے کہ شاہ اماں نے چپل سے وہ خبر لی کہ تڑپتے ہوئے اور شور کے ایک کونے میں پناہ لی۰۰۰اندر سے کھٹکا لگا لیا۔شاہ اماں غضبناک ہو کر چلاتی رہیں۔ اے اللہ تو نے ایک بیٹا دیا وہ بھی اتنا شریر کہ زہر فنا۰۰۰ کمبخت سارا دن اُدھم مچائے رکھتا۰ بہنوں کو ستانا بس یہی شفتل ہیں نواب کے۔ شاہ اماں بہتیرا ایم ایم کرتی رہیں پر شفی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی بس وہ بوری میں ٹھسی روئی کے پرزے ہوا میں اچھالتا رہا۔ شاہ اماں چڑ کر پھر تخت پر دراز ہو گئیں کہ حالب احمد آنگن میں داخل ہوئے۔ اوا آن کی آن میں شاہ بانو نے پہلو بدلا۔ حالب احمد مخاطب ہوئے اری نیک بخت کاہے کی بکلی ہے اب یوں منہ پھلائے بیٹھی رہو گی کچھ چائے ناشتے کا انتظام کرو۔ وہ سر پر دھری ٹوپی اُتار کر تخت کے ایک طرف ٹک گئے۔ آے لو! میں بائولی ہو گئی ہوں جو خواہ مخواہ میں بھی منہ پھلاؤں گی۔ ارے حکیم صاحب! ساری زندگی گزر گئی آپ سے چک چک کرتے اب بھی نہ سمجھے آپ ہمیں۔ ادھر میرُو نے جلدی سے دیگچی میں پانی ڈال کر چولے پر دھری کہ اب اماں،ابا کی پنچائتب بھی بس شروع ہونے کو ہے۔ حالب صاحب اس بے زبان کی بانسری سے بیزار ہوتے ہوئے بولے۔ وہی تو پوچھ رہا ہوں بھاگو ان! کہ معاملہ کیا ہوا ہے۔ شاہ بانو پٹاری ایک طرف سرکاتی ہوئی بولیں۔ ہونا کیا ہے۔۔۔؟ آپ کا لاڈلا آئے دن بکھیڑا کھڑا کئے رہتا ہے کبھی اس کو مار، کبھی اُس کو مار۔ بلا کا شریر پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی۔ ایسا بہنوں کو ٹھکانے لگاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں کہ آپ اسے کسی اچھے سکول میں کیوں نہیں داخل کرواتے سارا دن لڑکیوں کے کھیل کھیلتا رہتا ہے۔ کمبخت مارا۰۰۰۰حاطب احمد شروع سے ہی شفی کی اس عادت سے نالاں رہتے تھے کہ جہاں گڈے گڈیاں دیکھیں لگے اُن کی پانڈی روٹی کرنے۔ وہ چڑنے لگے۔ میں نے سوچا تھا کہ انگلش میڈیم میں اچھی تعلیم حاصل کرے گا مجھے بس اس کی اچھی تعلیم کو نامنظور تھی اسی کے مقدور انتظام کیا تھا۔ میں نے۰۰۰ اس میں کیا عُزر کہ لڑکے،لڑکیاں ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آج کا دور الگ ہے ہمارے دور سے۔۔۔۔پر وائے نادانی! اس کی حرکتوں نے شرمندہ کر ڈالا ہے اس کا سارا دن لہراتا پھرتا پھرتا مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا۰۰۰۰ کبھی اُس لڑکی کی چٹکی نوچ کی، کبھی اس لڑکی کی چٹیا کھینچ لی۰۰۰سارا سارا دن دوپٹے کی طرع اُڑتے پھرنا۔ لاحولا و لا قوتہ اللہ با اللہ۰۰۰۰اسے کل ہی لاہور بھیجوا دو اپنی بہن کے گھر۔ بس اب بہت ہو چکا۔ حالب احمد غصے میں آٹے ترچھی چپل پیروں میں اُڑ ساتے باہر کی جانب چل پڑے۔ اور شاہ اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ اُدھر شفی صاحب کواڑ سے جھانک کر جو ساری کاروائی دیکھ اور سن رہے تھے۔ تلملا اُٹھے۰۰۰ابامیاں تو آج تک اپنی کوتابینی کی وجہ سے ایک بیکار اور نالائق فرزند کا درجہ ہمیں دے ہی چکے ہیں۔ اور اب ہماری آنے والی زندگی کے متعلق تجویز دے کر ہمیں لاہور پھنکوا رہے ہیں۔۰۰ابا میاں کے پاس فالتو روپے کی بہتات جو ہے۔ اس لئے بلا تکلف یہ فیصلہ کر لیا گیا۔ چنانچہ از حد غور و خوض کے بعد لاہور میں ہماری خالہ امی کو دریافت کیا گیا اور اُن کو ہمارا سرپرست بنایا گیا۔اور ہم روتے پیٹتے خالہ امی کے گھر پہنچ گئے۰۰۰۰ لاہور پہنچ کر جو شخصیت ہمیں لینے آئیں اُن کو دیکھ کر میں تو پوری جان سے ہل گیا۔ یہ بڑی بڑی مونچھیں، چہرے پر دلربا۰۰۰اونچا لمبا قد، مجھ پر تو لرزا طاری ہو گیا۔ ہم لڑکتے، پھڑکتے، ان کے ساتھ ہو لئے۔ وہ مسلسل ہم سے سوال کیے جا رہے تھے اور ہم تھے کہ شرم سے زمین میں گرتے جا رہے تھے۔ کہ آئے لو۰۰۰یہ مرد ہماری خالہ اماں کا بیٹا تھے۔ ہماری پلکیں شرم سے جھکے جا رہی تھیں۔ ہم تو شروع ہی سے لڑکیوں میں پلے بڑھے، پھر سکول میں بھی لڑکیوں سی دوستی، لڑکوں کو تو منہ بھی نہ لگاتے تھے۔ ارے یہ کیا کیا ابا میاں نے ہم سے کس جنم کا بدلہ لے لیا کہ ہمیں یہاں بھیج دیا۔ ہمارے خالہ کے بیٹے کا نام اطہر زبیر تھا۔ وہ ہم سے مخاطب تھے۔ مجھے اطہر کہتے ہیں۔ میں جھجکا۔ جی۰۰۰ وہ تڑخ کر بولے تمہارا نام کیا ہے۰۰۰۰؟ کبھی تم سے ملاقات نہیں ہوئی۔اس لئے نام ذہن سے نکل گیا۔ اب ہم جلدی سے شرماتے ہوئے بولے۔ شفقت احمد لیکن ہمیں سب پیار سے شفی کہتی ہیں۔ ہم نے اپنی دونوں انگلیاں دانتوں میں داب لیں۔ اوہ اچھا۔۔۔ تم مجھے کس نام سے پکارو گے وہ سلوک نظروں سے میرا معائنہ کر رہے تھے۔ اور میں شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا۔ جو آپ کہیں۔ وہ مسکرا کر بولے مجھے یہاں پر پیپے کے نام سے سب جانتے ہیں۔ تم بھی یہی کہنا "چنگا" وہ اپنے روایتی انداز میں میرے کندھے پر ایک دھموکا مار کر بولے میں تو اس بھاری بھر ہاتھ کی کاری ضرب سے جھول سا گیا۔گرتے کرتے بچا۔ جی۔جی۔ میں آپ کو بھائی پیپے کہونگا۔ پھر میں ایک اچھے سے لڑکوں کے سکول میں داخل کروا دیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری دماغی اور روحانی چولیں متائثر ہونے لگیں۔ اب ہم تو ساری زندگی لڑکیوں کے ساتھ پڑھے۔لڑکوں سے تو دوستی رکھی ہی نہیں۔ اب یہاں اسکول میں سارے ہی لڑکے۔ اب کیا کریں۰۰۰؟ اب کوئی لڑکا کندھا مار دے یا ہم سے ہنس ہنس کر بات کرے تو ہم سمجھیں کہ یہ ہمیں چھیڑ رہا ہے۔ ہم سارا سارا دن زمین پر نظریں گاڑھے رہتے۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم روز بروز مرجھاتے چلے گئے۔ ایک دن یونہی اپنی قسمت کو روتے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ بھائی پیپے گفٹ لے کر آئیں ہیں ہمارے لیے۔ ہم لہراتے اُن کے کمرے تک پہنچ گئے اور کھٹاک سے اندر داخل بھی ہو گئے۔ بھائی پیپے ایک نفیس سا لباس تھامے کھڑے تھے کہ شفی یہ لو! یہ تمہارے لئے لایا ہوں۔ بازار گیا تھا تو اچھا لگا وہ خوشدلی سے مخاطب ہوئے۔ اور ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ آن کی آن میں وہ لباس اُن سے جھپٹا اور لگے لہرانے۔ ہائے بھائی پیپے یہ ہمارے لئے لائے ہیں۔ اور ہم مزید گنگنانے لگے۔ بھائی پیپے جی میں آتا ہے کہ یہ پہن کر ایک ٹھمکا بھی لگا دیں۔ یہ سننا تھا کہ " شڑاپ " ایک زور دار چماٹ ہمارے چہرے پر ثبت ہو گیا اور گویا یہ وقت ہماری خوشیوں کا آخری وقت تھا۔ تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ لباس ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا آور ہمارا آدھا ٹھمکا راستے میں ہی اٹک گیا۔ وہ دہاڑے پر ہمارے ہونٹ کی طرح کھلے منہ کے کلف میں کوئی نرمی نہ آئی ہم ایک ہاتھ رخسار پر رکھے حالت مرگ کی کیفیت میں دیدے پھاڑے اُن کی قہر آلود آنکھوں سے گرئیہ سوال بھی نہ کر سک رہے تھے کہ کیوں مارا۰۰۰؟ وہ غصے سے دھاڑے شفی کے بچے، بے غیرت ۰ یہ لہرا لہرا کر تو کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۰۰۰؟ ہیں بتا۰۰۰ وہ مجھے جھنجھوڑ کر بولے۰۰۰۰ یہ کس طرح بات کرتا ہے۔ ذ لیل! یہ کس طرح ہل ہل کر جھولتا رہتا ہے۔کھائے کاٹھمکا! " شڑاپ " ایک اور تھپڑ منہ پر پڑا تو میں وہ جا۰۰۰۰! سیدھا صوفے پر جا پڑا۔ ابے انسان بن ، اللہ نے جب مرد بنایا ہے تو مرد بن۔۔۔ میں نے تجھے بہت برداشت کیا۔ سوچا تھا کہ جو یہ تیری حرکتیں ہیں نا۔ اسکول جائے گا تو بندہ بن جائے گا۔ پر تجھے تو پھپھوندی لگ چکی ہے۔ تیری تو۔۔۔۔ " ایسی کی تیسی " اور بھائی پیپے نے ایک لات رسید کی۔ اور ہم بھائی پیپے کے اس جارحانہ تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے نیم غشی میں جانے لگے تو وہ ہمارا گریبان تھام کر بولے۔ ذلیل آدمی اگر تیرے یہ تیور رہے نا تو وہ جو لگتا ہے نا " مردوں کا بازار " وہاں پر گجرے باندھے ناچتا پھرے گا۔ کم بخت، کمینہ۔ دماغ خراب کر دیا میرا۔ دفع ہو جا اپنے کمرے۔ اور ہم سرپٹ دوڑے ایسے کہ پیچھے دیکھیں گے تو پتھر کے ہو جائیں گے۔ اگلے دن ہماری شاہانہ زندگی شروع ہو گئی۔ جو کہ ہمارے معنوں میں آزادی، فراغی اور وادفتگی سے محروم تھی۔ اسکول کے بعد جیسے ہی ہمارے لڑکھڑاتے قدم گھر میں داخل ہوئے۔ دوسرے ہی لمحے سبز قدم میں تبدیل ہو گئے۔شفی! ایک دھشتناک دھاڑ کے ساتھ ہمارے مسکین سے نام کی گردان ہوئی اور ہم گلی کے کتے کی طرح دھڑ دھڑ کرتے بھائی پیپے کے حضور پہنچ کر ہانپنے لگے ایک ہاتھ سینے پر رکھے زور زور سے ہکنے لگے تو بھائی پیپے چلائے شفی! ہاتھ سینے سے ہٹاؤ! ہم نے جلدی سے ہاتھ ہٹایا اور ترچھی نظروں سے اُن کے عتاب کو جانچا۔ وہ دھاڑے چلو! آج سے تم میرے ساتھ دکان پر بیٹھو گے۔ اور ہم منمناتی ہوئی آواز میں بولے۔۔۔جی۔۔۔ میں۔۔۔ وہ زور سے بولے ہاں تو اور کون " آلو کی دم " اٹھاؤ یہ سامان اور انھوں نے مجھ ننھی سی جان کو گدھا بنا کر بہت سارے پیکٹ لاش دئیے۔ اور اسکوٹر پر پیچھے بٹھایا۔ پھر غصے سے بولے ٹھیک طرح سے سیدھا ہو کر بیٹھنا اگر یہ پیکٹ راستے میں گرائے نا تو ادھر ہی پٹائی شروع کر دونگا سمجھا۔۔۔ اور ہم کپکپانے لگے جی۔۔۔۔۔ اور پھر انکی مار کے ڈر سے یہ ہمارا خدا ہی جانتا ہے کہ صرف پھولوں کو اٹھانے والا شفی کس طرح سے اپنا بیلینس برقرار رکھ سکا یہ الگ کہانی ہے۔ پھر اُنکے چلانے پر مردوں میں سے ہوتے ہوئے دکان میں سیٹ کرنا یہ ہمارا معمول بن گیا تھا۔ جانے مجھے یہ اھم ہو چلا تھا کہ یہ مرد مجھے چھیڑ رہے ہیں۔ دیکھ رہے ہیں جیسے لڑکیوں کو محسوس ہوتا ہے ویسے ہی مجھے لگتا تھا۔۔۔ اور میں مردوںں سے نظریں چراتا تھا۔میں دوکان میں بیٹھا کپڑوں کو پیکٹوں میں سیٹ کر رہا تھا کہ بھائی پیپے کی آواز آئی شفی! اور میں عجلت میں دوڑا کہ اب کوئی نئی مصیبت نہ آ کھڑی ہو جائے۔ شومئی قسمت وہ رعب سے بولے۔۔۔شفی! جاؤ۔۔۔آگے موڑ سے بائیں طرف سینما ہے وہاں سے ٹکٹ لے کر آؤ۔ اور میں پوری جان سے لرز گیا۔ بھائی پیپے! ہم تو نہیں جا رہے وہاں تو لائن لگی ہو گی۔ ابھی ہماری بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ دھاڑے۔ دفع ہوتا ہے یا ایک دُوں۔ اور پھر بھیا! سر پٹ دوڑے۔۔۔۔ اور مردوں کے بیچ میں سے آڑے ترچھے ہو کر دھکم پیل میں ٹکٹ حاصل کر کے آگئے فی خوشی خوشی! بھولی بسری لہراہٹ پھر سے تن میں سرایت کرنے لگی اور ہم ہلنے لگے۔ بلکہ اچھلنے لگے۔۔۔ہائے بھائی پیپے چلیں نا۔ کون سی مووی لگی ہے۔ اللہ کتنا مزہ آئے گا۔ بس اتنا ہی کہا تھا مجھ مسکین نے کہ انکا ہتھوڑا نما ہاتھ پھر ہمارے رخساروں کا محاصرہ کرتے ہوئے ایک عدد چھپائی سنت کر چکا تھا اور ہمارے نازک ہاتھوں سے ٹکٹ اڑ کر ہوا میں لہرانے لگے کہ ہم اپنا لہرانا بھول کر پیچھے کو کھسکنے لگے۔۔۔ ذلیل آدمی۔۔۔۔ وہ پھر دھاڑے۔۔۔۔خبردار اس لب و لہجے میں لہرا لہرا کر میرے سامنے آیا تو۔۔۔۔ تیری تو۔۔۔۔ " ایسی کی تیسی " انھوں نے دانت بھینچ کر مکا میرے چہرے کے سامنے جھٹکے سے کیا تو میری لہراہٹ کپکپی میں تبدیل ہو گئی۔ بھائی پیپے معاف کر دو۔ اب کے نہیں کرونگا۔میں نے فقیروں کی طرح شکل بنا کر ہاتھ جوڑے تو وہ ایک قدم جھٹکے سے آگے بڑھے تو میں دس قدم پیچھے ہٹا انھوں نے ٹکٹیں اٹھائی اور دونوں میرے ہاتھ پر رکھ کر بولے سڑک پار کر کے دائیں طرف کی گلی میں مڑ کر جو 103 نمبر کا گھر ہے وہاں دروازہ بجا کر یہ ٹکٹ دے دینا کہ فرح کو بھیج دیں۔ یہ انکشاف مجھ پر دھماکے کی طرح پھٹا کہ گویا یہ ٹکٹ ہمارے لئے نہیں کسی فرح کو دینے ہیں۔ منہ بناتا ہوا اُن کے بتائے ہوئے راستے کی طرف چل پڑا اور گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا بیل دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک بھاری بھرکم پہلوان نما آدمی اندر سے برآمد ہوا۔ اُسے دیکھ کر میری تو سٹی گم ہو گئی۔ (کی اے) وہ پنجابی میں بولا۔ جی۔۔۔۔جی۔۔۔ میری تو زبان ہی لڑکھڑانے لگی۔ وہ دھاڑے اوئے دسدا نہیں کی کم اے۔ اور اس کے پوچھنے پر ہم نے جھٹ ٹکٹ اُن کے سامنے کر دئیے کہ فرح کو بھیج دیں۔ یہ سننا تھا کہ جانے اُس سانڈ کو کیا ہوا وہ تو مجھے خونخوار نظروں سے ایسے دیکھنے لگا کہ جیسے قصائی بکرے کو دیکھتا ہے۔ کی کیا۔۔۔؟ وہ تھر تھر کانپنے لگا۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ بھائی پیپے نے جو حکم دیا ہے۔ اُسے پورا نہیں کرونگا تو مارا جاؤں گا۔ اس لئے اس سانڈ کو اپنی ناقص رائے سے اور اس ٹکٹ سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ پر یہاں تو آگے "کنواں پیچھے کھائی " والا معاملہ تھا۔جیسے بھی کانپتےکانپتے ٹکٹ آگے کئے تو وہ سانڈ مجھ پر جھپٹا اور قسمت سے میں اس کے ہاتھوں سے پھسل کر دور کو بھاگا۔ ایسا بھاگا۔۔۔ایسا بھاگا کہ مجھے پھر کوئی ہوش نہ رہا۔ وہ پیچھے پیچھے میں آگے آگے پورے بازار کے چکر لگاتا۔ بھائی پیپے کی پیٹھ کے پیچھے چھپ گیا۔ بھل بھل آنسو بہنے لگے۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ دل اچھل اچھل کر پسلیوں میں گھسے جا رہا تھا۔۔۔ ہم نے بھائی پیپے سے فریاد کی کہ اللہ کے واسطے اُس سانڈ سے میری جان بچائیے۔ خیر بڑی مشکل سے جان چھوٹی۔۔۔ میں کافی دیر تک ہانپتا رہا۔ روتا رہا۔ پر بھائی پیپے ایسے پتھر دل کہ صلح بھی نہ ماری۔۔۔ پھر ہم گاؤ تکیےپر سر ٹکا کر فجی سے گئے۔ پھر کتنے دنوں تک بھائی پیپے کے یہی لچھن رہے کہ " جاؤ اُس دکان والے کو گالی دے کر آؤ۔ جاؤ اُس لڑکے کو دھکا دے کر آؤ۔روٹی والے کی دکان پر گھنٹوں کھڑا کرواتے۔ رش میں دھیکیلتے غرض کہ کونسا ایسا شعیہ نہ ہو گا جس پر بھائی پیپے نے جی ہلکا نہ کیا ہو گا۔کئی بار تو ہم پھیل جاتے پر بھائی پیپے اسے دُرتے لگاتے کہ سر تسلیم خم رہتا۔ مجھے بھائی پیپے کا ایک طریقہ اچھا لگا، اتنا اچھا کہ اسی کو دستورالعمل بنا لیا۔ اپنے لئے۔۔ وہ کتب کا مطالعہ کرتے تھے۔ اُن کی شلف کتابوں سے انواع اقسام کے کھانوں کی طرح بھری پُری رہتی تھی۔زندگی کا ہر روپ ہر رنگ اُن کی شلف کی زینت تھا۔ وہاں موجود میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ جو شخص ہر روز دہی کی لسی پیا کرتے اس کی عمر بڑھتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ انسان کے جسم میں ایسے جراثیم یہاں جو قاطح حیات ہیں۔ اور دہی کی لسی ان جراثیم کے لئے بمنزلہ زہر ہے یہی وجہ ہے کہ گاؤں کے رہنے والے لوگ شہریوں کی نسبت عموماً طویل العمر اور تندرست ہیں۔ہم بھی روزانہ دہی کی لسی کو دوسرے کھانوں پر فوقیت دیتے پر کیا کریں ابھی بھی ہمارے اسٹرکچر کے خلیات ہیں کافی جیدار جراثیم موجود تھے جو ہمیں ٹھیک طرح سے کھڑے ہونے نہیں دیتے تھے دل چاہتا جھومتے ہی رہیں پر بھائی پیپے کا عتاب یاد آتے ہی تمام بدن میں جھر جبری سی آ جاتی۔۔۔ اب یوں ہوا کہ بھائی پیپے کی بہن اپنے بچوں کے ساتھ ہمارے ہاں رہنے آ گئیں۔ اُن کے بچوں سے گھر بھر میں رونق ہو گئی۔۔ ہم بھی خوش ہو گئے۔ کہ چلو بھائی پیپے اب ہم پر کم سے کم ہی برسیں گے۔ پر جناب ہماری قسمت خراب واقع ہوئی ہے۔ اب ہوا یوں کہ مگو آپا کے بچے مٹی میں کھیل رہے تھے ایک گڑھا کھودے جا رہا تھا۔ اور جانے کیوں کھودے جا رہا تھا۔ دوسرا بیلچہ اُٹھائے مٹی نکال رہا تھا۔ اب اوپر والے بچے نے نیچے بیٹھے مٹی نکالتے بچے کے ہاتھ پر جو بیلچہ مارا تو وہ بچہ اچھلتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ دونوں نے کچھ کھسر پُھسر شروع کر دی۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جانے کون طرح کی کاروائی چل رہی ہے۔ اب دونوں پانی کی ٹونٹی کھولے جانے کیا بلا رگڑ رگڑ کر دھونے لگے۔ ایسے میں خالہ اماں آئیں باہر کچے صحن میں اور بچے ایک دم سے کھڑے ہو گئے۔ خالہ اماں کو بچوں کی حرکات کچھ مشکوک لگی تو چھان بین کے بعد کے واقعات جان کر وہ پوری جان سے چلانے لگیں۔ ارے شفی! جلدی آؤ۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔ انھوں نے ململ کا کپڑا ایک بچے کے ہاتھ میں باندھ دیا۔ اور وہ بچہ ہمیں تھما دیا کہ جاؤ جلدی سے کلینک لے جاؤ۔ کہیں مگو کو خبر لگی تو وہ تو ہل جان کر لے گی اپنے آپ کو۔۔۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔ جھٹ سے بچے کا ہاتھ تھانا۔ جو کہ ململ کے کپڑے سے بندھا پڑا تھا۔ مٹکتے جھٹکتے آنا فانا کلینک پہنچے۔ اندر ڈاکٹر کو مدعا بیان کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ کا معائنہ کیا۔ اور ہمیں آواز دی۔ ہم بھی ڈاکٹر صاحب کے قریب آگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہمارے سامنے بچے کا ہاتھ کیا۔۔۔ ہائے! یہ کیا۔۔۔؟ وہ بچے کا آدھا کٹا ہوا انگوٹھا تھامے کھڑے تھے۔ یہ دیکھیں یہ انگوٹھا تو بچوں نے دھو دھو کر بے جان کر دیا ہے۔۔۔ اب اسے بڑے ہسپتال لے جائیے۔۔ اُن کی ادھورے بات ہی ہمارے کانوں تک رسائی حاصل کر سکی۔ ہم تو چکرا کر یہ دھڑام سے جو گرےتو۔۔۔ آنکھ ہسپتال کے بیڈ پر ہی کھلی۔۔۔ ہمارے ساتھ سیٹ پر وہی بچہ پٹی کروا کر یوں چپکا بیٹھا تھا کہ گویا اُسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ ایک ٹک ہمیں کو دیکھ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آ گئے۔ آپ بھی نا آپ سے تو اچھا یہ بچہ ہی ہے کہ اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی آرام سے بیٹھا ہے اور آپ ہیں کہ بیہوش ہو گئے۔ اگلے روز اتوار کی چھٹی تھی ہم نے سوچا کہ یہ آٹھ نو بجے تک سو کر کل کی تمام اتاروں گا مگر ابھی تڑکا ہی تھا کہ بھئی پیپے نے میرا نام لے لے کر پکارنا اور دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ ہم ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھے۔ آنا فانا دروازہ کھولا۔ بھائی پیپے نے اشارے سے بلایا۔۔ہم ان کے قریب جا بیٹھے۔۔ اسلام و علیکم بھائی پیپے! خیر تو ہے؟ وہ ہماری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔ وعلیکم اسلام۔۔۔۔ ہاں! خیر ہی ہے تمہیں کل کراچی واپس جانا ہے۔ وہ آرام سے بولے۔ اور ہم حیرت کی تصویر بنے یک ٹک اُن کو گھورے گئے ہیں۔ کیا ابا میاں اور شاہ اماں ٹھیک ہیں۔۔۔؟ ہمارے لبوں سے سوال پھسلا۔۔۔ تو بھائی پیپے مسکرا کر بولے ایک سال گزر گیا اور پتہ بھی نہ چلا۔ تمہیں گھر جانا ہو گا۔ تمہاری سیٹ کروا دی ہے۔ تیاری کر لو۔ وہ یہ کہہ کر ہمارے سر پر چپت لگا کر اندر چلے گئے اور ہمارے حلق میں جیسے گولا سا پھنس گیا۔ دل ایک دم ہی بھر آیا کہ ہمیں تو واقعی ایک سال کے لئے یہاں بھیجا گیا تھا۔ ہم یہ سوچ کر ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے۔ مردہ دل سے پیکنگ کی۔ اور بھائی پیپے کو دیکھتے ہی اُن سے چماٹ گئے۔ ہائے بھائی پیپے آپ ہمیں بہت یاد آئیں گے۔ ہمیں آپ کی عادت جو ہو گئی ہے۔ سچ پوچھیں کہ ہمارا دل بلکل بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ واپس کراچی چلے جائیں بھائی پیپے کو چھوڑ کر۔۔۔ وہ مسکرائے۔۔۔ ہاں مار کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے تم کو۔۔۔ وہ ہمارے سر پر پیار سے چپت لگا کر مسکرائے۔ چل شفی۔۔۔۔ بازار چلیں۔ کچھ خریداری کرنی ہے۔ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئے ہم بھی اُن کے پیچھے ہوئے۔ تھوڑی دیر میں ہم جامع مسجد کے پاس پہنچ گئے۔ جو شہر کے بیچوں بیچ واقع تھی اور جس کے آس پاس ہر روز تیسرے پہر بازار لگا کرتا تھا اور اتوار کو تو وہاں بہت ہی چہل پہل رہا کرتی تھی۔ اولین ایام میں ہمارا دم گھٹتا تھا۔ اس آدمیوں کے ٹھاٹھے مارتے سمندر میں۔۔۔ پھر بھائی پیپے کی موجودگی میں ہم تھوڑے سے آدمی بن جاتے ہماری وضع بے وضع نہ ہوتی۔ اور پھر بھائی پیپے کی انوکھی خواہشات کہ پھیری والے سے پوچھ کہ عطر کتنے میں دیا۔۔۔۔؟ اور ہم ہیں کہ ہماری آواز ایسی ہو جاتی کہ جیسے بھیک مانگ رہے ہیں۔ ایسے میں بھائی پیپے کی تین ہوئی بھنویں۔۔۔۔ ایسا مردوں کا رش۔۔۔۔۔ طرح طرح کی ہانک لگاتے پھیری والے کہ، بچوں کے سلے سلائے کپڑے، چنریاں، ٹوپیاں، کنگیاں، چٹکے، ازاربند، عطر، پھلیل، اکرتی، کٹھمل،سارنے کا پوڈر، مٹھائیاں، چاٹ علاوہ ازیں تصویر گنڈنے والے، جڑی بوٹی والے اور ایسے ہی اور پیشے والے اپنی انوکھی وضع اور اپنی مخصوص صدا سے ہمیں پہلے ہی بولائے دے رہے تھے۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے قسم سے ہمارا دل تو چنریوں اور چوڑیوں کی طرف مائل تھا۔ پر ہمیں زیادہ رُلنا نہ پڑا ایک دکان سے بھائی پیپے نے عطت خریدے، شاہ اماں کے لئے شال اور ہمارے لئے ایک نفیس سا سوٹ۔ بہت پیارا سا سوٹ تھا۔ ہمیں بہت بھا یا۔ پھر ہم آگے کو چل پڑے  کہ بھیا اب تو گھر کو لوٹنا ہے۔ ہم قدرے لہرا بھی سکتے تھے بھائی پیپے کی موجودگی میں.... بلکہ سچ پوچھیں تو ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیں ان کی غائبانہ سلگتی نگاہوں کا عتاب دل سے یاد رہتا تھا۔ یوں سمجھیں ہم کافی حد تک سیدھے کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے تھے۔ یوں تو شہر کے لوگوں کو چاندنی کے حسن اور بہاروں کا کم ھی احساس ہوتا ہے۔ بجلی کے قمقموں کی روشنی ان کے لئے چاندنی رات ہے۔ بجلی بند ہو جائے تو چاندنی رات بھی بلند عمارتوں کے سائے میں غائب ہو جاتی ہے۔
وائے قسمت! ہم بھی کافی دیر  بھائی پیپے کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ بلآخر ایک جگہ پر بھائی پیپے رک گئے۔ وہ ایک پنواڑی کی دکان تھی۔ ہم سمجھے بھائی پیپے پان کھانا چاہتے ہیں۔ پر ہم نے تو ان  کو ہمیشہ  حقہ گڑ گڑاتے دیکھا تھا۔ خیر اپنے ناقص ذہن کو طفل تسلیاں دیتے ان کے پیچھے ہو لئے۔ نا تو بھائی پیپے نے جیب سے پیسے نکالے نا ہی پنواڑی نے ان کو پان بنا کے دیا البتہ انہوں نے ان سے کچھ بات کی... شائد کسی کا پتہ پوچھا۔پنواڑی نے مثبت میں گردن ہلا کر اوپر کی منزل کی طرف اشارا کیا تو وہ اسے "اچھا" کہ کر اوپر زینے چڑھنے لگے۔ہم بھی ان کے پیچھے تھے۔ رات ہو چلی تھی پر چاندنی کا نام و نشان تک نہ  تھا۔ہم بھی تھک چکے تھے سوچا چلو اندر چل کر چائے ناشتے سے فیضیاب ہو کر باہر نکلیں گے گھر کی طرف۔ بھائی پیپے نے دروازاہ کھٹکھٹایا، ہمیں زیادہ انتظار نا کرنا پڑاور اندر سے ایک لمبا چوڑا بندا برآمد ہوا۔وہ چوکور دھاریوں والی تہمند اور بنیان پہنے تھا بھائی پیپے کو دیکھتے ہی ان سے بغلگیر ہو گیا۔پھر دریں اثنا ہمارا بھی تعارف ہوا اور ہم اندر کو چلے آئے۔گھر کافی صاف ستھرا تھا جو گھر میں کسی خاتون خانہ کی موجودگی کا پتہ دیتا تھا۔ہم بھی بڑے نفیس ہیں آن کی آن میں گھر کو چمچما دیں اور کھانا بنانے کے بھی ایکسپرٹ ہیں۔ اب بھائی پیپے نے ان سے علاقے کی گندگی اور غیر انتظامی امور پر کئی سوال کر ڈالے۔ان کے دوست کی گویا دکھتی رگ پھڑک اٹھی۔
ارے یار پیپے!" یہ بھی کوئی علاقہ ہے اپنی ذات پر مغرور، دن ہو یا رات کام میں مصروف، نا تفریح نا تعطیل، کارخانوں کا دھواں، دن رات کی ٹھک ٹھک، آنکھیں دھویں سے بند ہیں، کان تھکے ہوئے،غریبوں کے لئے دن رات کی بے چینی، ایک ایک کمرے میں کئی کئی جانیں، نا تازہ ھوا نا عمدہ خوراک، گلیوں اور کوچوں میں غلاظت کے ڈھیر، خاکروب گلیوں کے چودھری ہیں، کبھی ایک بار معائنے کے لئے آ گئے ورنہ سپردِ خدا، ... حکومت نئے منصوبے نئی سکیموں میں غلطاں ہے عمل ناپید"۔
اور بھائی پیپے کے دوست جانے کون کون سے رویوں کو کوس رہے تھے۔ہم نے بھی چائے کے ساتھ سرو کئے گئے لوازمات کے ساتھ پر ہاتھ صاف کئے اور بور ہونے لگے کہ بھائی پیپے جانے کا کہیں تو  اٹھیں ادھر سےپر آج بھائی پیپے کا اس خدائی فوجدار سے ملک کی ساری رپورٹیں لینے کا پروگرام تھا۔ ایکا ایکی ہمیں کمرے کے ساتھ والی گیلری نظر آئی اور ھمارا دل مچلنے لگا کہ ہم گیلری میں جائیں اور ہوا خوری کر لیں۔اب ہمیں بھائی  پیپے کی اس جھک جھک سے کوئی غرض نا تھی سو ہم بھائی پیپے کو بتا کر اس گیلری میں کھڑے ھو گئے۔سڑک کے ساتھ لوگوں کا ریلا آگے کو جاتا دکھائی پڑ رھا تھا۔مین روڈ پر ہی بھائی پیپے کا فلیٹ تھا۔منظر کچھ یوں تھا کہ بس سٹاپ پر جو کچھ تھوڑا پیچھے تھاوہاں قطاروں کا لامتناعی سلسلہ،رکشہ، ٹیکسی ڈرایئوروں کے مزاج ان کے تیوروں سے سمجھ آ رہے تھے۔ایک طرف ٹھیلا ہے دکانیں ہیں پر مقررہ نرخ پر چلنے کو کوئی تیار نہیں۔دوگنے چوگنے دام اگر کوئی ایک دن کا کام ہو تو دے بھی دیں ۔ چار و ناچار بچے ،بوڑھے ، مرد ،عورتیں سب ہیں کہ قطار میں حسرت کی تصویر بنے کھڑے ھیں۔جو چڑھ سکے ان کو قابل رشک نظروں سے دیکھا جاتا ھے۔ اور جب  اپنی باری آتی ہے نا تو راز کھلتا ھے کہ یہ تو ایک آزمائش ھے۔وہ دھکم پیل کہ خدا کی پناہ،چھینا جھپٹی کا عجیب عالم،منہہ سے پھول جھڑ رہے ہیں کہ تہذیب یافتہ قوم کے فردعنقا  ہونے کے برابر، بچے بستوں کے بوجھ سے ہلکان،نہ انہیں کہیں رکھ سکیں اور نا ہی کہیں بیٹھ سکیں۔آگے جانے کی جلدی فرسٹ آنے کا جنون۔ یکا یک ایک ٹرک والا سگنل توڑتا ہوا جو ایک پاکستانی ھونے کی شان ہے۔ہم اوپر سے کھڑے یہ منظر دیکھ رھے تھے۔سامنے سے آتی گاڑی کہ گھسیٹتا ھوا یہ جا وہ جا۔آن کی آن میں لوگوں کا ہجوم متاثرہ گاڑی کی طرف لپکا۔ایک شور سا برپا ہو گیا۔ ایسے میں ھم نے بھی ادھر سے دوڑ لگا دی  بھائی پیپے بھی آئے۔۔۔۔ اور زینہ پھلانگتے لوگوں کے ہجوم کو چیرتے ھم بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے کہ دیکھیں تو کتنا نقصان ھوا ھے۔ ابھی ھم سامنے کی کاروائی کا جائزہ لے ھی رھے تھے کہ ھمارے دائیں طرف ایک آدمی گرا پڑا تھا۔۔۔۔ اللہ معاف کرے اُس کا سر سیپی کی طرح کھلا پڑا تھا اور اس میں اُسکا مغز یوں اُچھل رہا تھا کہ جیسے جیلی ہلتی ھے ھم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور چکرا کر دھڑام۔۔۔۔۔ اب ھماری بے ھوشی میں جانے کونسی کارروائی عمل میں آئی ھمیں کچھ علم نہیں۔۔۔ ھمیں ھوش آیا۔۔۔ ھم اسپتل میں تھے سامنے پولیس والا بیٹھا تھا اُسے دیکھ کر ھم دوبارہ ہولانے لگے تو بھائی پیپے نے ھمیں خود سے لگایا تو کچھ ہمت آئی ۔ پولیس والا بولا۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ کے وقت کار میں تین آدمی موجود تھے۔۔۔۔ یہ تو کھری بات ھے۔۔۔۔ تو تم کہاں سے آ گئے۔۔۔ ؟ وہ رعب سے بولا۔۔۔ تو ھم اٹک اٹک کر بولے۔۔۔۔ جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ ھم تو اوپر گیلری سے سارا منظر دیکھ کر نیچے آئے تھے کہ معاملہ کیاھوا ھے اور یوں خون کا سیلاب دیکھ کر ھم برداشت نہ کر سکے۔۔۔۔ اور ٹیں ھو گئے۔۔۔ پولیس افسر مُسکراتا ھوا باہر ھو گیا اور بھائی پیپے ھمیں گُھوربے لگے۔۔۔۔ اور پھر خدا کی پناہ آئی اور اسپتال سے خلاصی کے بعد بھائی پیپے ھمیں انگلش فلم evil dead دیکھانے لے گئے۔۔۔ ھمارے دل ، جگر کی مضبوطی کی خاطر خیر یہ اور بات ھے کہ فلم دیکھنے کے بعد ھم اپنی سیٹ سے اُٹھ نہ سکے اور یوں گیلی پتلوں میں ھی گھر کے لئے نکل پڑے۔ وقت مقررہ پر ھماری روانگی عمل میں آئی۔۔۔ اور ھم دلہنوں کی طرح وقتِ رخصت ٹسوے بہاتے ٹرین میں سوار ھو گئے۔۔۔۔ ہاں ! ھم نے بھائی پیپے کی سرخی مائل نیلی آنکھیں آخری بار دیکھیں اور ہر چیز پیچھے کی طرف دوڑنے لگی۔۔۔۔۔ ھم تو تھے ھی کراچی کے ، ھمارے آس پاس کے لاھوری کراچی جانے کے لئے کتنے شاد تھے کہ '' کراچی روشنیوں کا شہر ھے۔۔۔ اور ایک ھم ھیں ایک ناشاد منہ بسورتے روتے رہے۔۔۔ ہمیں تو کراچی کی ساری روشنیاں سمندر میں ڈبکیاں لگاتی پحسوس ھو رہی تھیں۔۔۔ پھر جب تھک ہار کر ادھر اُدھر کی مزےمزے کی باتیں سننے کی کوشیش کرتا ، تو تنہائی اور دہشت میرے کانوں میں بمباروں کی طرح گونجتی اور میں بھائی پیپے کو یاد کر کے رو دیتا۔ اور یوں روتے دھوتے بھائی پیپے کی یاد دل کے نہاں کھانوں میں چھپائے ھم کراچی لوٹ آے۔ ۔۔۔۔ پر وہ نہ رھے جو پہلے تھے۔ ہاں ھم میں اتنا ضرور رہ گیا تھا کہ جب کوئی جی دار میوزک کانوں میں پڑتا تو ٹھمکا لگانے کو دل مچلتا۔ اور پھر ایک عدد لہراتا ھوا ٹُھمکا برآمد ھو جاتا ہاں ! ایسا ضرور ھوتا تھا پھر بیچ میں بھائی پیپے کا تنا ھوا ابرو یاد آتا تو ھم ڈر ور چھوڑ کر رونے بلکہ چلانے لگتے۔ اس عرصے میں جانے کتنے ساون بیت گئے۔۔۔۔۔ اماں کا ہر وقت روپے کی کمی کا رونا۔۔۔۔ ابا کا ہمیشہ کی طرح چلانا۔ آیستہ آہستہ بہنوں کی رخصتی اور بھائی پیپے کی شادی کا دعوت نامہ۔ ابا میاں نے ہمیں لاھور جانے نہ دیا کہ exam جو تھے پر ھمارا دل جو ھے نہ وہ پنجرے میں بند پنچھی کے طرح پھڑپھڑا رھا تھا کہ ھم کسی طرح بھائی پیپے سے بات ھی کر لیں۔۔۔۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک فون تک ھمارے گھر نہیں تھا۔ ھم نے دل کے ھاتھوں مجبور ھو کر بھائی پیپے کو خط لکھ ڈالا۔۔۔ پیارے بھائی پیپے اسلام علیکم:- اُمید ھے کہ آپ خیریت سے ھونگے ھم بھی آپ کے بغیر نہ زندوں میں شمار ھوتے ھیں نہ مرُدوں میں۔ ھر پل آپ کی یاد ھمیں ستاتی ھے۔۔۔۔ دل جلاتی ھے۔۔۔۔۔ بس بہت ھوا بھائی پیپے آپ ھم سے آن کر مل جائیں۔۔۔ آپ کا شفقت۔۔۔۔۔ شفی خط پوسٹ ھوئے ایک ہفتہ بھی مشکل بیتا تھا کی بھائی پیپے کا فون آ گیا۔ محلے میں ایک گھر کا نمبر اُن کے پاس تھا اٰنہوں نے میرے لاھور کا ٹکٹ بھیجا ھا کچھ روپوں کے ساتھ اور ابا میاں سے کہا تھا کہ جتنی جلدی ھو سکے شفی کو بھجوائیے۔ یہاں میرا گھر اٰجڑ رہا ھے اٰن کی بیگم نے ان کی جیب سے وہ خط بر آمد کیا اور کر دیا ہنگامہ۔۔۔۔ کہ کسی لڑکی ورکی کا چکڑ ھے اور وہ کسی طور مان بھی نہیں رہیں بات خلع تک پہنچ گئی تو یوں ہنگامی اجلاس بلوایا گیا۔۔۔۔ ھم تو امتحانوں سے بھی فارغ ھو چکے تھے اب بھائی پیپے کا سن کر ھم اور ھواؤوں میں اُڑنے لگے۔۔۔ رات گئے تک لاھور پہنچے اور بھائی پیپے سے لپٹ گئے۔ بھائی پیپے نے اپنی بیگم سے ھمارا تعارف کروایا۔اس دوران ھم بھائی سے یوں چمٹے تھے جیسے دیوار سے چھپکلی اور اؒن کی بیگم یک ٹک ھماری حر کات و سکنا ت کا جائزہ لیتی ر ھیں۔ بھائی پہلے بولے۔۔۔۔۔ نورین۔۔۔۔ اللہ کی قسم۔۔۔۔۔ یہ شفقت ھے۔ شفی دیکھ لو اسے۔۔۔۔ اور جانے نورین بھابھی کو کیا ھوا وہ ھمیں دیکھ کر مسکرا اُٹھیں۔ اور بھائی نے ھمیں پیار بھری چیت رسید کی۔ ھمیں کسی بھی قسم کی کہانی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ بس ھمیں ھمارے بھائی پیپے مل گیے تھے یہی بہت تھا اور یوں ھماری نورین بھابھی سے پکی والی دوستی ھو گئی اب ھم اُس عمر کو پہنچ چکے تھے کہ ھمیں جاب کرنا تھی ۔ بھائی پیپے کی سرپرستی میں ھمیں بہت سی راہیں سوجھیں۔۔۔ جب ھم مل بیٹھتے تو میں انہیں چھیڑتا۔۔۔ بھائی پیپے ھو جاۓ ایک ٹھمکا تو زور سے چلا تے۔۔۔ شفی۔۔۔۔ تیری تو۔۔۔۔ ایسی کی تیسی۔۔۔۔ پھر اُنہیں کی سرپرستی میں ھمیں معلوم ھوا کہ لڑکیاں بھی کوئی شے ھیں۔۔۔۔ اپنے گردونواح میں نظر دوڑائی تو دل میں حرکت شروع ھو گئی ۔ بالوں کی سیٹگ ، پینٹ شرٹ ، جینز سب کا سلیقہ آنا شروع ھو گیا۔ اور یوں ھم نے موٹربائک سے بھی اچھی خاصی دوستی کر لی۔ بس اتنا فرق ضرور تھا کہ بھائی پیپے حقہ پیتے اور ھم چھپ چھپاتے سیگریٹ نوش فرمانے لگے اور یوں ھماری مردانہ صلاحیتں ھمارے وجود کا حصہ بننے لگیں۔ اور دو مہینوں کی چھٹیوں میں ھم مردِمومن کے درجے پر فائز ھو ھی گئے۔ اور دن ھو یا رات ھم موٹر بائک کے کان سروڑتے پھرتے۔ چاھے کتنی ھی بھیڑ کیوں نہ ھو۔۔۔ دھینگا مشتی۔۔۔۔ لڑائی جھگڑے۔۔۔۔ بل بھرنے کلیئے گنٹوں ھی کیوں نہ لائن میں کھڑا ھونا پڑتا۔ ھم ان سب باتوں کو انجوائے کرنے لگے۔ ڈارؤنی موویز بہت شوق سے دیکھتے۔۔۔ اور پتلون بھی نہیں بھیگتی۔ ہاں جب بھائی پیپے سیگڑیٹ پیتے دیکھ لیتے تو خدشہ رہتا کہ اب نہ گیلی ھو جائے۔ خیر سیگڑیٹ پینا ایک بُری عادت ھے۔ اس کے پینے میں کاھے کی بہادری۔ نالائقی ھے سراسر۔۔۔۔ چھٹیاں ختم ھونے کو تھیں۔ ھمیں واپس لوٹنا تھا۔ اب ھمارے دل پر اُداسیوں کے بوجھ نہ تھے۔ بلکہ دل میں جلد ۔۔۔۔۔ بہن کی شادی اور جاب حاصل کرنے کی جستجو تھی۔۔۔۔۔ گھر جانے کی تمنا تھی ۔۔۔۔ سو بھائی پیپے کے کشادہ ماتھے پر ایک بھرپور بوسہ دہتے ھوئے ھم اپنی منزل کی طرف روانہ ھو گئے۔۔۔۔۔ ٹرین دوڑنے لگی۔ پھر وہی پیچھے بھاگتے مناظر۔۔۔ وہی اول جلول سی باتوں پر ایک دوسرے کو طعنے دیتے ھم سفر اور وھی مزے مزے کے مناظر۔۔۔ پر دل ایک ھی تال پر ہمک رہاتھا وہ تھی بھائی پیپے کی میٹھی یاد۔وہ میرے بھائی ہی نہیں دوست بھی تھے۔ ۔۔۔ اُن کی باتیں سچی اور بےلاگ تھیں۔ بےشک انہوں نے مجھے مارا۔۔۔ بہت مارا۔۔ پر ان کی مار میں جو ایک نصیحت تھی وہ میری زندگی کا حاصل نچوڑ ھے۔ آج وہ کتنے خوش تھے آپکو پتا ھے جب کہ جیسے کوئی دوست دوسرے دوست کو فائدہ پہنچانے کی سبیل کے بابت سوچے اور آسے فائدہ پہنچتا دیکھ کر مسرت ظاہر کرے۔۔۔ وہ ''سچا دوست'' یا '' ''جانی دوست'' ھوتا ھے۔ میرے جانی جانی دوست بھائی پیپے ھی تو ھیں۔ دوسری بات مجھے یہ سمجھ میں آئی کہ والدین لڑکیوں کی طرف سے پریشان رہتے ھیں کہ انہیں کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنہ پڑے۔ انہیں تحفظ دیتے ھیں انہیں زمہ داری سمجھتے ھیں۔ اور لڑکوں کو یونی مرد سمجھ کر ایک طرف کر دیتے ھیں۔ کہ یہ تو لڑکا ھے یہ نہیں ھونا چاھیے۔۔۔۔۔میں اپنی مثال دینا چاھوں گا میں ایسا کیوں بنا ؟ کیونکہ میری پانچ بہنں تھیں اور میں اکیلا بھائی۔ والدین نے یہ تک دہکھا نہیں کہ میں بھی انہیں پانچ بہنوں میں کہیں کھو گیا ھوں۔ اُن ھی کی طرح بولنا ِ، اُن کے دوپٹے اور چوڑیوں میں دلچسپی لینا۔۔۔۔۔ شرماناں ۔۔۔۔ ساری ادائیں تو لڑکیوں والی ھو گئی تھیں۔ والدین کو گھر چلانے کے مسائل پر جھگڑنے میں یہ فرصت ھی نہ ملی کہ ہمارا لڑکا کیا کر رہا ھے۔۔۔۔ ؟؟ کیوں کر رہا ھے۔۔۔ ؟ یہ سوچیں ! یہ ایک سیاہ سوال ہے۔ جس طرح لڑکیوں پر نظر رکھی جاتی ھے والدین کا فرض ھے کہ اُسی طرح لڑکوں کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ ان کی زندگی پر کڑی نظر رکھہں چاہے دور سے ھی ۔ پر اُس کی ذات پر خصوصی توجہ دیں۔ اگر آپ کے ارد گرد کوئی ایسا بچہ پنپ رہا ھے تو اُسے اپنی باتوں سے ذلیل نہ کرین بلکہ اُسے احساس دلائیں کہ وہ ایک مرد ھے۔اور اللہ تعالیٰ نے اسے بے بہا صلاحیتوں سے نوازا ھے۔۔۔۔۔ اُسے سوچنے پر مجبور کریں کہ وہ سب کچھ کر سکتا ھے۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ آج میں ایک شادی شدہ انسان کی حثیت سے زندگی گزار رھا ھوں۔ میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ھیں۔ دونوں بیٹیوں کی شادی کر دی ھے اب بیٹے کی شادی کرنا ھے ۔ ایک سب سے چھوٹا بیٹا ابھی تعلیم حاصل کر رہا ھے۔ میرے دونوں بیٹے میرے مشاہدات اور نظریات کے تحت پل کر جوان ھوے ھہں۔ نہایت مضبوط اور مہذب بچے ھیں۔۔۔۔۔ الحمداللہ۔۔۔۔۔آج بھی اگر کسی ایسے بچے کو دیکھتا ھوں جو مجھ سا لگتا ھے۔۔۔۔ تو سب سے پہلے اُس سے دوستی کر لیتا ھوں۔۔۔۔ اب میں ایک باریش بزرگ بن چکا ھوں۔۔۔ جو عزت میں نے کمائی ھے اُس میں اللہ کے بعد بھائی پیپے کو کریڈٹ دیتا ھوں۔۔۔۔ وہ میرے سب سے اچھے بڑے بھائی اور '' سچے دوست ''تھے۔ والدین سے التماس ھے کہ وہ اپنے لڑکوں پر توجہ دیں۔ ممکن نہیں کہ ہر گھر میں ایسا ھو پر کہیں نہ کہیں تو ممکن ھے نہ۔۔۔ ! مجھے تو بھائی پیپے مل گئے۔ اگر آپ کے بچے کو کوئی '' بھائی پیپے'' نہ ملے تو۔۔۔۔ سوچیں!!
 سمیرا اشتیاق دوحہ قطر

No comments:

Post a Comment