a

Showing posts with label Seher Sohail. Show all posts
Showing posts with label Seher Sohail. Show all posts

Wednesday, July 11, 2018

Dil abad hone tak novel pdf by Seher Sohail Episode 1

Dil abad hone tak novel pdf by Seher Sohail Episode 1

Dil abad hone tak novel  by Seher Sohail


is very famous social, romantic Urdu novel.

It is published on Group Of Prime Urdu Novels online.

Seher Sohail is a new writer and its her new novel which is

being written for us. Dil abad hone tak by Seher Sohail Epi 1

is available here to download in pdf form and online reading. 

Click the links below to download this novel in pdf form or 

free online reading. For better result click on the image to zoom.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



ONLINE READING

Dil abad hone tak novel online reading by Seher Sohail Episode 1






CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING





Friday, June 8, 2018

Lahasil khwahishat Article by Seher Sohail

Lahasil khwahishat Article by Sehar Sohail

"لاحاصل خواہشات"
از "سحر سہیل"
کہنے کو تو انسان اشرف المخلوقات  کے درجہ پر فائض ہے اور فرشتوں نے بھی اسے سجدہ کیا لیکن اسی انسان کو جب اللہ جی نے اس دنیا میں بھیجا تو گویا اسکے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ۔  کہنے کو تو انسان روز اس دنیا کو نت  نئے طریقوں سے فتح کر رہا ہے پر بات جب اسکی ایک معمولی ، چھوٹی ،اور  بے ضرر خواہش کو پورا کرنے کی آتی ہے تو وہ بے بس ہو جاتا ہے۔اور انسان تو پھر انسان ہی ہے وہ تب بھی نہیں سمجھتا  کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ ایک زرہ تک  کو بھی دریافت نا کر پاتاکہ "جب تک اللہ نہ چاہے کویئ نہیں چاہ سکتا۔" کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ  ہم کسی ایسی چیز کی خواہش کر بیٹھتے ہیں جسکا حصول بظاہر تو بہت آسان لگتا ہے لیکن در حقیقت وہ ہماری پہنچ سے بہت دور ہوتی ہے اور ہر ممکن کوشش کے باوجود ہم اس چیز  کو حاصل نہیں کر پاتے  اس خواہش کو  پورا نہیں کر پاتےاور تب ہم خود کو بہت بے بس محسوس کرتے ہیں ہےاور وہ بے بسی کچھ کو صبر کی طرف لے جاتی ہےاور کچھ کو ایک ایسی بند گلی میں جہاں سے واپسی کا راستہ ہر کسی کو نہیں ملتا ۔ انسان آخر اتنا بے بس کیوں ہے کہ  کسی ایک کو اپنی بات نا سمجھا سکےاور وہ بھی وہ شخص جسکا سمجھنا اسکے لیے باقی سب پر بھاری ہو؟  اتنا بے بس کے جب وہ یہ سوچتے سوچتے تھکنے لگے کہ "سب اچھا نہیں ہے تو کیا ہوا ، ایک دن آیگا جب سب اچھا ہو جاۓگآ" تو وہ اس ٹوٹتی امید کو پھر سے جوڑنے کے لیے کچھ بھی نا کر سکے؟  اتنا بے بس کہ وہ خود کو یہ یقین نا دلا سکے کہ ایک ایسا دن بھی آیگا جب  وہ سب حاصل کرلےگا جس سے اسے خوشی ملے ،سکون ملے ۔" جب زندگی اسے نا گزارے بلکہ وہ زندگی کو گزارے۔" اتنا بے بس کے وہ خود کو یہ  سوچنے سے نہ  روک سکے کہ اگر وہ اس دنیا میں نا ہوتو کیا کویئ بھی ایسا نہ ہوگا جسے اسکے نا ہونے سے فرق  پڑے؟ جب وہ خود کو یہ سوچنے سے باز نہ رکھ سکےکہ اگر اسے وہ مل جاتا جو اسے خوشی دے سکتا تھا تو کسی کا کیا چلا جاتا؟ وہ یہ نہ سوچے کہ لوگ ہمیشہ اُسے ہی غلط کیوں سمجھتے ہیں؟کہ  سب اچھا ہوتے ہوتے  اچانک خراب کیسے ہو جاتا ہے؟ کہنے کو تو ہمیں بہت سی سہولتیں ، بہت سی نعمتیں میسر ہیں لیکن اگر وہ ایک چیز  جو ہم چاہتے ہیں وہی نا ہو تو کیا ہم باقی کسی نعمت کو یاد رکھتے ہیں؟ انسان ایسا کیوں ہے؟ جیسے کسی کو قید کی عادت ڈال کر   پھر اس قید سے رہائ دے دی جاۓکہ جاؤ آج سے تم آزاد ہو کھل کے سانس لو ۔ لیکن یہ سب سوچتے سوچتے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں  "کہ سب کو سب  نہیں  ملا کرتا "کہیں نا کہیں کچھ کمی ہمیشہ رہ جاتی ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنے والے آج نہیں تو کل ہمیں اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہی ہے ۔ جہاں ہماری خواہش رکھنے سے بھی پہلے وہ چاہ پوری کر دی جایئگی۔  لیکن کیا واقعی یہ سب اتنا ہی آسان ہے؟ کیا کوئ ایسا سوچتا ہے کہ  اپنی ساری زندگی ضائع کرکے جب ہم اللہ کا سامنا کرینگے  تو اسکے سامنے اپنی لا حا صل خواہشات کا رونا رونے کے قابل ہونگے؟ کیا آگے سے ہم سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ ہمنے انہے پورا کرنے کے لیے کیا کیا؟  کیا اپنی خوشی کا محل ہم نے کسی کے غموں  پر تو نہیں کھڑا کیا  تھا؟ تو یہ ہم نے سوچنا ہے کہ ہم کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں کہ اس دنیا میں چند لوگوں کے آگے شرمندہ ہونا اس شرمندگی سے بہت بہتر ہے جو ہمیں اللہ کے سامنے ہو سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Saturday, December 23, 2017

Allah umeed nahi yaqeen hai Article by Seher Sohail

Allah meed nahi yaqeen hai Article by Seher Sohail



کبھی کبھی صبر کرنا کتنا مشکل ہو جاتاہے نا؟ کسی ایسی چیز پر جو آپ ہمیشہ سے ہی اپنے لیے پسند کرتے آے ہیں - ایک ایسی چیز جسکو پانے کی آپ نے سالوں کوشش کی ہے- اس کے ہونے کے لیے دعا کی ہے- لیکن جب وہی چیز آپ کسی دوسرے کو بغیر کوشش کے حاصل کرتا دیکھتے ہیں تو آپ ناراض ہو جاتے ہیں -خود سے! اللہ تعالی سے! پوری دنیا سے-سوچتے ہیں کہ اگر وہ چیز ہماری نہ ہوئی تو کسی اور کی بھی کیوں ہو؟ انسان ایسا کیوں ہے؟ کہ اگر وہ خود اداس ہے تو چاہتا ہے کہ پوری دنیا ہی اداس ہو جاے- اگر وہ خود خوش نہیں ہے تو کوئی دوسرا بھی خوش نا ہو- لیکن وہ یہ یاد کیوں نہیں رکھتا کہ جو چیز اسکے لیے اہم ہے کسی دوسرے کے لیے اسکا ہونا یا نا ہونا برابر ہوگا- ایسے میں انسان کیا کرے؟  جب لگے کے ہر طرف اندھیرا پھیل رہا ہے اور یہ اندھیرا بڑھتے بڑھتے اسکے دل تک پہنچنے لگے-جو اسکے اندر کی روشنی کو آہستہ آہستہ نگلنے لگے- جو اسے سوچنے پر مجبور کرے کیا اللہ کو اسکا یہ انرھیرا نظر نہیں آرہا؟ جو زات اسکی شہ رگ سے بھی قریب ہے کیا وہ نہیں دیکھ رہی کہ اسکی برداشت اسکی آزمائشی کے آگے ہارنے لگی ہے؟ جیسے اسکے لیے ہر دروازہ ایک ایک کر کے بند کیا جا رہا ہے-ہر روشنی کو اسکے لے اندھیرے میں بدلا جا رہا ہے؟ اور وہ خود بس سب ہوتے دیکھ رہا ہے-خاموش اور بے بس ہو کر! ایسے میں انسان کیا کرے؟ وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ یہ دنیا تو ایک آزمائش ہے- اگر انسان جو چاہتا ہے سب ویسا ہی ہونے لگے تو اللہ کو کون یاد کریگا؟ کیونکہ انسان تو ایسا ہی ہے-نا شکرا! اسکی نظر ہمیشہ اسی چیز پر رہتی ہے جو اسکے پاس نہیں ہے- اس سے کیا ہوتا ہے؟ اللہ اسے ان ہی چیزوں میں الجھا دیتا ہے- اسے اپنے قریب کی نعمتیں نظر آنا بند ہو جاتی ہیں -اور پھر کیا ہوتا ہے؟ انسان اپنی پوری زندگی ان چیزوں کو پانے میں لگا دیتا ہے- لیکن ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہےکہ اس نے اپنی پوری زندگی ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے گزاردی جو اسکی قسمت میں لکھی ہی نا گئ تھیں- انسان ہمیشہ یہی سوچتا ہے کہ وہ جانتا ہے اسکے لیے اچھا کیا ہے اور برا کیا-کیا اسکے لیے بہتر ہے اور کیا نہیں -لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر بات کا جاننے والا تو صرف اللہ ہے- اگر اسے اپنے لیے بہتر کا پتا ہے تو اللہ کو یقینا اسکے لیے بہترین کا معلوم ہے! اور جو رب ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ اپنے بندے کے لیے بہتر نہیں تو بہترین ہی لکھے گا- ہمیں ضرورت ہے تو صرف اللہ پر یقین کرنے کی- ہمیں خود کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جو ہوگا اچھے کے لیے ہی ہوگا کیونکہ اللہ تعالی ہمارے ساتھ کچھ غلط کر ہی نہیں سکتا- اور اگر ہمیں کسی موڑ پر لگے کے ہمارے لیے سب دروازے بند کر دیے گے ہیں تو یقینا کوئ ایک دروازہ ایسا بھی ہوگا جو ہماری دستک کا منتظر ہوگا! اور انسان اپنے لیے اس دروازےکو کیسے کھلتا دیکھے؟میرےلیے تو اسکی چابی صرف دعا ہے! لیکن وہ دعا جس میں پورا یقین شامل ہو کہ ہمارے لیے یہ دروازہ اسی سے کھلے گا- وہ دعا جس میں اللہ سے پوچھا جاے کہ اسکا علاوہ کن ہے  جو یہ دروازہ اسکے لیےکھول سکے؟ کون ہے جو اسےان اندھیروں سے باہرنکال سکے؟ کوئ نہیں نا ؟ جب بغیر احسان جتاے اور شرمندگی کے تاثر کے کسی دینے والے کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلےذہن میں اللہ ہی کی زات آتی ہے- تو اسی سے مانگنا چاہئے- یہ یقین دلانا چاہئے کہ ہمارے لیے اس دروازےکا کھلنا کتنا اہم ہے- ہمارےیقین کے لیے اور ناامید ہونے سے بچنے کے لیے- جس کے اندر ہمارے لیے صرف روشنی ہی ہوگی جو ہماری زات کے ان تمام اندھیروں کو دور کر دیگی جو ہمیں ناامیدی اور مایوسی کی طرف لے جائیں - جب ہم یہ بات سمجھ لینگے تو خوش رہنا بھی سیکھ لینگے - جب ہمارا یقین کامل ہوگا کہ اللہ تعالی ہے جو ہمارے لیے ہم سے زیادہ جانتا ہے تو  خوش رہنے کے لیے ہمیں کسی وجہ کو نہیں ڈھونڈنا پڑیگا - کامل کیا ہوتا ہے؟ کچھ ایسا جو مکمل ہو جس میں شک کی گنجائش نا ہو اور اگر یقین ہو تو پورا ہی ہو! کیونکہ اللہ تعالی کی زات سے شک کو منسلک نہیں کیا جا سکتا- اور انسان کو اپنے لیے  یہ کامل یقین ہی ڈھونڈنے کی ضرورت ہے یہ سوچتے ہوے کہ شاید یہی وہ روشنی ہے جو اسکے لیے اندھیروں کو دور کر سکتی ہے - ضرورت ہے تو صرف خود کو باور کرانے کی کہ اللہ تعالی اسکے لیے بہتر نہیں تو بہترین ہی کرےگا-

Saturday, November 11, 2017

Mein apna maseeha khud hon Article by Seher Sohail

Mein apna maseeha khud hon Article by Seher Sohail



کہتے ہیں جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے۔
 اگر ہوتے ہوتے اچانک کچھ نہ ہو سکے تو اسکا نہ ہی حق میں بہتر ہوتا ہے۔کسی دوسرے کے لیے شاید وہ کچھ نہ ہو لیکن کسی ایک کے لیے اس وقت اس کا پورا ہونا ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔
 خواہش کبھی بھی چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، ایک انسان کے لیے وہ صرف خواہش ہوتی ہے۔
میں کبھی بھی ایک بات نہیں سمجھ سکی کہ ایک چھوٹی سی خواہش کے پورے نہ ہونے میں کسی کے لیے کیا بھلائی ہو سکتی ہےآخر؟ االلہ توسب کر سکتا ہے تو پھر وہ اسکے لیے "کن"کیوں نہیں کہہ دیتا؟ کسی ایسی چیز کے نہ ہونے میں اسکے لیے کیا بھلائی ہوگی جس کے نہ ہونے سے اس پر اداسی طاری ہونے لگے۔ایسی اداسی جو اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ کردے، کہ اسے لگنے لگے وہ جو بھی مانگے وہ قبولیت کی سند نہیں پا سکےگا اور باقی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی طرح وہ بھی ویسا ہی ہو جائیگانا مکمل۔
 خواہش کو خواہش ہی رہنا چاہیے، اسے حسرت نہیں بننا چاہیے کیونکہ خواہش کے پورے ہونے کی امید تو ہوتی ہے لیکن حسرت انسان کو ناامید کر دیتی ہے اور ناامیدی وہ چیز ہے جو انسان کو مایوس کر دیتی ہے۔ہر چیز سے۔ یہ انسان کو ایسی کیفیت میں لے جاتی ہے کہ اس کا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا- یہاں تک کہ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ا اللہ نے اسے دعا میں محنت کرنے کو کہا ہے (94؛ 7 )۔
انسان ہر وقت تو یہ نہیں سوچ سکتا کہ سب اچھا ہوگا ابھی نہیں تو کبھی سہی؟ اچھا وقت نہیں رہتا تو برا بھی نہیں رہےگا ۔ایسا سنا تو بہت ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی تو ہونگے جو اس برے وقت کے گزرنے سے پہلے خود ہی گزر گئے۔
زندگی میں سب اچھا کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہم ہمیشہ ان چیزوں پر ہی کیوں نظر رکھتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکیں؟ ہم انکے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جو ہمارے پاس ہیں؟ انسان اگر اداس ہو تو وہ کچھ وقت کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی کا دل ہی اداس ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ انسان اداس ہمیشہ وقتی طور پر ہوتا ہے کسی وجہ سے، لیکن دل تب اداس ہوتا ہے جب انسان کے خواب یا تو ٹوٹ جاتے ہیں یا پھر انکے پورے ہونے کی امید ختم ہو جاتی ہے۔
 قرآن پاک میں ہے کہ" تمہارا رب تمہیں اتنا دیگا کہ تم راضی ہو جاؤگے۔ "(93:5)
تو جب دل اداس ہونے لگے تو اس آیت کو بار بار پڑھنا چاہیے کہ ا اللہ ہم سے کیا کہہ رہاہے۔وہ کیا چاہتاہے کہ ہم اس صورتحال میں کیا کریں؟ وہ ہمیں کیا امید دے رہا ہے؟ اور االلہ سے بہتر کون امید دلاسکتا ہے؟ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہر غلط چیز کے باوجود ایک ایسی ہستی ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ جس کے بس میں ہر غلط کو صحیح کر دینے کی طاقت ہے۔ ہمیں کرنا ہے تو صرف یہ کہ خود کو منفی باتیں سوچنے سے باز رکھیں - کیونکہ کوئی بھی ہمارے لیے یہ نہیں کر سکتا! ہمیں خود کو خود ہی ٹھیک کرنا ہے۔مرضی سے یا پھر زبردستی ہی۔یہ وہ عمل ہےجو اپنے لیے ہم خود ہی کر سکتے ہیں ۔کسی دوسرے کی بات ایک وقت تک ہم پر اثر کرےگی اس کے بعد پھر سے سب پہلے کی طرح ہی ہونے لگے گا۔ اگر کوئی انسان آپ کو اس کیفیت سے باہر نکال سکتا ہے تو وہ آپ خود ہیں کیونکہ آپ کا مسیحا صرف ایک شخص ہوتا ہے اور وہ شخص آپ خود ہوتے ہیں -(نمل)

Sunday, October 8, 2017

Ik shaks sary shehr ko weran kar gaya Article by Seher Sohail



ہر انسان اپنی زندگی میں کچھ ایسے لوگوں کو کھوتا ہے جن کے جانے سے اسکی زندگی ختم تو نہیں ہوتی لیکن پھر وہ پہلے جیسا بھی نہیں رہتا۔ کھونے کی بعد کی تکلیف تو الگ ہے۔ لیکن وہ بےبسی جو اس کھونے کے درمیان والے عرصے میں محسوس کرتا ہےوہ پھر کبھی نہیں جاتی۔ اسکے بعد بےشک سب اچھا ہوتا رہے لیکن انسان ذیادہ تر اس برے کے اثر میں ہی رہتا ہے۔
 میں نے بھی ایک ايسے انسان کو کھویا۔ جن کے جانے کا میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ اس جانے کے عرصے میں بھی کبھی ذہن میں نہیں آنے دیا کہ یہ انکا آخری وقت بھی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں نا کہ "ایک شخص پورے شہر کو ويران کر گیا۔" ویران کسے کہتے ہیں؟ میرے لیے تو ويرانی یہ ہے کہ جب ایک جگہ چار،پانچ لوگ اکٹھے ہوں تو وہ سب اس ایک جانے والے کو سوچ کر اداس ہوں! ويرانی یہ ہے کہ انسان ہنستے ہنستے ایک دم ايسے اداس ہو جاۓ کہ لگے اب ہنسنے کے لیے پوری جان لگ جائیگی۔ کچھ لوگوں کے بارے ميں انسان جانتا ہوتا ہے کہ یہ ہميشہ ساتھ نہیں رہينگے ۔ لیکن پھر بھی انسان سوچتا ہے کہ کاش اسکے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی تو اسے گھما کے وہ سب ويسا کر ديتا جیسے کہ وہ خود چاہتا ہے۔ یعنی "سب اچھا اور ہميشہ ساتھ رہنے والا۔"
  قرآن پاک ميں آتا ہے کہ " بےشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔" سنا تو ہوگا کہ"کسی کو بھی پورا آسمان نہیں ملتا۔" میرے لیے یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہم ہميشہ اس ادھورے آسمان پر ہی نظر کیوں رکھتے ہیں جو ہماری قسمت میں لکھا ہی نہیں جاتا؟ ہم کیوں اس ادھورے آسمان پر شکر نہیں کرتے جو ہميشہ سایہ دیتا ہے؟ رب تعالی جب مشکلوں میں ڈالتا ہے تو ساتھ کوئی ایک ایسا انسان یا کوئی ایسی چیز ہمارے لیے اس میں سے دے دیتا ہے جو ہمیں سکون  دیتی ہے۔ لیکن ہم صرف روتے ہيں کہ ہم پر ہی کیوں مشکل آئی اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ چیز یا انسان بھی تو ہميں اس مشکل کی وجہ سے ملا۔ ہم ساری زندگی مشکل پر روتے رہتے ہیں لیکن اس سے ملنے والے فائدے کو کبھی نہیں سوچتے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ جب سب غلط ہو رہا ہو تو کوئی ایک چیز ایسی ضرور ہوتی ہے جو اس غلط کے ہونے پر صحیح  ہو جاتی ہے۔ ہمیں بس اپنے ليے وہ ایک چیز ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔‍‌